Mantara- Novel

 680.00

In stock

منتارا’ کی کہانی ایک عام سے منظر اور پس منظر میں کولمبو اور پھوکٹ کے ساحلوں پر دھیمے خرام کے ساتھ نمودار ہوتی ہے۔ حسن و عشق کی چہلیں ہیں، خود سپردگیاں ہیں، ناز و نخرے ہیں، جسموں کی گہرائیوں کے بھید بھی ہیں اور بھاؤ بھی۔ یوں کہانی دھیمے دھیمے رفتار پکڑتی ہے اور حاکمیت کے بے رحمانہ اسلوب “ڈیپ سٹیٹ” کے منجدھار میں پہنچ کر یہ رفتار دیوانگی کی خونیں حدوں می داخل ہو جاتی ہے۔ کہانی کی زیریں لہروں کی بوقلمونی تہ میں پڑی حیرتوں کی ریت کو اس وحشت و دہشت اور شدت کے ساتھ کھودتی ہے کہ قاری ہر ہر قدم پر خود کو نیچے۔۔۔ اور نیچے دھنستا پاتا ہے۔ سیاسی جرائم کی لامتناہیئت دم لینے کی مہلت ارزانی نہیں کرتی۔ کہیں پڑھا تھا کہ قلوپطرہ کی ناک اگر ذرہ بھی مزید لمبی ہوتی تو تاریخ عالم کچھ اور ہوتی ‘منتارا’ پڑھنے سے پہلے یہ جملہ کبھی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ ہر دور کی سیاسی قحبہ گیری ہو یا قلوپطرہ کی ناک، “منتارا” کی قلوپطراؤں کی یہاں کی سیاست پر فرماں روائی صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہاں “سیاسی طوائف” کی برانڈنیو اصطلاح اپنی تمام تر معنوی برہنگی کے ساتھ موجود ہے۔ مخدوم ناظر حیات ایک سیدھا سادہ سا حسن پرست کردار ہے لیکن انتشاری مہاجرت نے اسے ہوس کا خانہ بدوش بنا رکھا ہے۔ ایک گرم آغوش اسے سیاسی وجاہت سے زیادہ عزیز ہے۔ حفیظ خان نے اُسے بڑی ہی خوب صورتی اور مہارت کے ساتھ تیار کیا ہے۔

Report Abuse

منتارا’ کی کہانی ایک عام سے منظر اور پس منظر میں کولمبو اور پھوکٹ کے ساحلوں پر دھیمے خرام کے ساتھ نمودار ہوتی ہے۔ حسن و عشق کی چہلیں ہیں، خود سپردگیاں ہیں، ناز و نخرے ہیں، جسموں کی گہرائیوں کے بھید بھی ہیں اور بھاؤ بھی۔ یوں کہانی دھیمے دھیمے رفتار پکڑتی ہے اور حاکمیت کے بے رحمانہ اسلوب “ڈیپ سٹیٹ” کے منجدھار میں پہنچ کر یہ رفتار دیوانگی کی خونیں حدوں می داخل ہو جاتی ہے۔ کہانی کی زیریں لہروں کی بوقلمونی تہ میں پڑی حیرتوں کی ریت کو اس وحشت و دہشت اور شدت کے ساتھ کھودتی ہے کہ قاری ہر ہر قدم پر خود کو نیچے۔۔۔ اور نیچے دھنستا پاتا ہے۔ سیاسی جرائم کی لامتناہیئت دم لینے کی مہلت ارزانی نہیں کرتی۔ کہیں پڑھا تھا کہ قلوپطرہ کی ناک اگر ذرہ بھی مزید لمبی ہوتی تو تاریخ عالم کچھ اور ہوتی ‘منتارا’ پڑھنے سے پہلے یہ جملہ کبھی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ ہر دور کی سیاسی قحبہ گیری ہو یا قلوپطرہ کی ناک، “منتارا” کی قلوپطراؤں کی یہاں کی سیاست پر فرماں روائی صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہاں “سیاسی طوائف” کی برانڈنیو اصطلاح اپنی تمام تر معنوی برہنگی کے ساتھ موجود ہے۔ مخدوم ناظر حیات ایک سیدھا سادہ سا حسن پرست کردار ہے لیکن انتشاری مہاجرت نے اسے ہوس کا خانہ بدوش بنا رکھا ہے۔ ایک گرم آغوش اسے سیاسی وجاہت سے زیادہ عزیز ہے۔ حفیظ خان نے اُسے بڑی ہی خوب صورتی اور مہارت کے ساتھ تیار کیا ہے۔

Be the first to review “Mantara- Novel”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Reviews

There are no reviews yet.

Vendor Information

Product Enquiry

Main Menu